20 ستمبر 2011 - 19:30

اسلامی بیداری کانفرنس میں رہبر انقلاب سے ربانی کی آخری ملاقات افغانستان کے صدر حامد کرزئي نے کہا ہے کہ افغان شخصیات کا قتل اس سرزمین کے خلاف دشمنوں کی گہری سازش ہے۔

ابنا: کابل سے ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق حامد کرزئي نے افغانستان کی اعلی امن کمیٹی کے سربراہ برہان الدین ربانی کے قتل کی مذمت کرتے ہوۓ کہا کہ برہان الدین ربانی افغانستان کے جہاد اور استقامت کے لیڈر تھے اور انہوں نے برسہا برس تک ملک کی خود مختاری اور قومی اتحاد کے لۓ کوششیں کیں۔ انہوں نے ملک میں امن و آشتی کی برقراری کے عمل کے آغاز سے ہی اس میں حصہ لیا اور آخر کار اسی راستے میں انہوں نے اپنی جان قربان کردی ۔ حامد کرزئی نے مزید کہا کہ افغانستان کی شخصیات کی سیریل کلنگ سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اس سرزمین کے خلاف ایک بہت بڑی سازش تیار کی گئي ہے اس لۓ افغان عوام کو اپنے اتحاد کا تحفظ کرنا چاہۓ۔ واضح رہے کہ افغان صدر حامد کرزئی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لۓ نیویارک گۓ ہوۓ تھے لیکن وہ برہان الدین ربانی کے قتل کی خبر سن کر فورا افغانستان واپس آگۓ ہیں۔ افغانستان کے حکومتی عہدیداروں ، جہادی رہنماؤں اور دوسری شخصیات نے الگ الگ بیان جاری کر کے برہان الدین ربانی کے قتل کی مذمت کی ہے۔ برہان الدین ربانی کے قتل کے بعد ان کے بیٹے نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوۓ دعوی کیا ہے کہ پاکستان کی انٹیلی جنس آئي ایس آئی ان کے باپ کے قتل میں ملوث ہے۔ واضح رہےکہ بعض یورپی ذرائع ابلاغ نے طالبان کے ایک ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کےحوالے سےرپورٹ دی تھی کہ طالبان نے برہان الدین ربانی کے قتل کی ذمے داری قبول کرلی ہے حالانکہ ذبیح اللہ مجاہد نے افغانستان کے ذرائع ابلاغ سے رابطہ کر کے برہان الدین ربانی کے قتل میں طالبان کے ملوث ہونے کو مسترد کردیا ہے۔ برہان الدین ربانی کو کل شام کے وقت کابل میں امریکی سفارت خانے کے قریب ان کے چار محافظوں کے ساتھ قتل کردیا گيا۔
............ 
/169